Home بلاگ/ کالم تھر پار کر کی ایک جھلک میرے نظروں میں

تھر پار کر کی ایک جھلک میرے نظروں میں

34 second read
0
0
475

تحریر : فوزیہ جمیل

تھر رقبے کے لحاظ سے پاکستان ایک بہت بڑا ضلع ہے جو کہ اپنی وسیع و عریض ، صحرائی علاقوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ ’’تھر پارکر‘‘ سندھ کے جنوبی مشرقی حصے میں واقع ہے ۔مختلف تحقیقی معلومات کے مطابق 1993 ء میں میرپور خاص کے نام سے ایک نئی ڈویژن قائم کی گئی جو چار اضلاع پر مشتمل ہے یعنی میرپور خاص ’’سانگھڑ‘‘ عمر کوٹ اور تھرپارکر ۔ اس تقسیم سے پہلے ضلع تھرپارکر دو حصوں میں بٹا ہوا تھا۔ ریگستانی حصہ جسے ’’ڈیزرٹ زون‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ا س حصے کے مزید دو حصے ، شمال مغربی حصہ جو تھر کہلاتا ہے اور جنوب مشرقی حصہ پارکر کہلاتا ہے تھر پاکر کا مطلب ، تھر اور پارکر کا م مجموعہ علاقہ ہے۔
پانی کی قلت کے باعث یہاں کا شتکاری اور مویشیوں کی نشو و نما کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے، انسان کی بنیادی سہولیات کی کم یابی اور صحت کے معاملات بھی انتہائی خراب ہیں۔ یہاں اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی انتہائی نیچے اور کھارا ہے اور پینے کے قابل نہیں، اس لیے پانی کا سارا دارو مدار موسمی بارشوں پر ہی ہے۔ لیکن صحرا تھر کے باسییوں کے لیے بادل اور بارش کا انتظار طویل ہو جاتا ہے۔ آخری بار یہاں بارش صرف 25 ملی میٹر تک ریکارڈ کی گئی ، اور اگر مون سون میں بارش نہ ہو تو مویشی مرنے لگتے ہیں۔ مقامی باشندوں کو لامحالہ مویشیوں کے ساتھ نقل مکانی کرنی پڑتی ہے۔
تھر کی 80 فیصد آبادی گلہ بانی اور مویشیوں کی افزائش نسل کے شعبے سے منسلک ہے، جو پاکستان کے مکمل لائیو اسٹاک کی صنعت کا ڈیڑھ فیصد حصہ بنتا ہے۔ کلوئی میں موجود باسیوں ی زندگی کا دارومدار بھی اسی شعبے پر جس سے انکی روزی روٹی چلتی ہے۔کلوئی کے مقامی افراد بتاتے ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے ان کے لیے سب سے خوشی کا وقت ہوتا ہے کیوں کہ ان بارشوں کی بدولت اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکتے ہیں لیکن اگر موسم کچھ ہوکر شدت اختیار کر جاتا ہے تو اپنے مویشیوں سمیت نقل مکانی کرنے کو نوبت آجاتی ہے، تلاش آب، تلاش روزگار اور بچوں کی پرورش اس طرح سے ہے جیسے کوئی مسلسل ریت کے سمندر میں ہو ، اور کوئی نا خدا بھی نا ملے۔ خشک سالی عموما مئی سے شروع ہو کر اگست تک رہتی ہے جو کہ ایک طویل عرصہ ہوتا ہے ، اسی دوران صحت، زچہ بچہ کے مسائل اور خوراک کے لیے جدو جہد کس قدر جان لیوا اور جاں گساں مرحلہ ہوسکتا ہے ، سوچتے ہوئے بھی روح کانپ جاتی ہے۔چونکہ یہاں آبادی مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کی ہیں تو اس وجہ سے کچھ مذہبی معاملات کی وجہ سے بھی یہاں خوراک کی ممنوعہ اقسام زچہ اور بچہ کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی نشو ونما کا کوئی مناسب فسلفہ موجود نہیں۔
تھر کے دیگر تحصیلات بھی کچھ ایسی ہی مشکالات سے دوچار ہیں مگر غیر سرکاری ادارے اور وہاں کے باشندے اپنی زندگی کی گاڑی کو کسی نہ کسی طرح کھینچ رہے ہیں۔ بنیادی سہولیات تو درکنار روزگار، صحت اور تعلیم کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہنر مند، محنت کش، اور باصلاحیت مین پاور ابھی تک تنزلی اور تباہی کا شکار ہے۔تھرپاکرکے دوسرے تحصیلات بہت سے ایسی نایاب اثاثوں سے بھری پڑی ہیں جن کا ذکر اس وقت ممکن نہیں ، ان کی ایک الگ ہی داستان اور تاریخ ہے۔بھوک و افلاس کے عالمی اعداد و شمار 2017 میں پاکستان کا نمبر 116 ہےصوبائی لحاظ سے سندھ کا نمبر اس سب سے آگے ہے۔اور سب سے زیادہ روزگار کے مسائل اور بھوک و افلاس سے اموات جیسے مسائل تھرپارکر میں ہی ہیں۔موسمی تغیرات میں پاکستان کا نمبر پانچواں ہے۔
ا ن اعداد و شمار کے تحت ہمیں اس بات کو سنمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہئیے کہ سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی کوششوں کے باوجود بھی یہاں مسائل کا انبار ہے جسے سنجیدگی سےسمجھنا اور حل کرنا بہت ضروری ہے۔ تھر, میں سب سے بڑی تحصیل، چھاچ ہرو جس کی آبادی ساڑھے تین لاکھ اور دوسرے نمبر پر کلوئی جو کہ سوا لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے۔
2019 میں دعا فاؤنڈیشن کے تحت ڈسٹرکٹ تھر پارکر کی تحصیل کلوئی کے چار دیہاتوں میں ایگروفارم منصوبوں کاافتتاح کیا گیا تھا, جس کے صدر عامر خان اور سیکریٹری ڈاکٹر فیاض عالم ہیں ، دعا فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر فیاض عالم پانی کے معیار کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’پانی کا باقاعدہ ٹیسٹ کرایا گیا ہے۔ یہ پانی پینے کے لیے مناسب تو نہیں، ہاں اسے گھریلو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ جبکہ یہاں کے رہنے والے اس سے بھی زیادہ نچلے درجے کے پوائنٹس کے خراب پانی کو پینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔کیونکہ سرکاری سطح پر لگائے گئے پلانٹس مناسب دیکھ بھال اور مینٹینس نا ہونے کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہین اور بند پڑے ہیں۔
زیر بحث پراجیکٹ میں کلوئی کے مقام پر دعا فاؤنڈیشن نے سولر سسٹم کے ساتھ فراہمی آب کا انتظام بھی کیا ہے جس نے وسیع رقبے کو سر سبز اور کاشت کے قابل بنا دیا ہے، موجودہ پر اجیکٹ میں دعا فاؤنڈیشن کے تحت، 50 ، کھجور اور آم کے درخت لگائے جارہے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے اور کھجور صحرائے عرب کا تحفہ ۔ ان درختوں کے علاوہ پہلے سے ہی موجود کئی اقسام کی سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کی جا چکی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی زمین کتنی زیادہ رز خیز اور قابل کاشت ہے۔
اگر آب میسر ہو تو اس سونا اگلتی زمین کو زرخیز اور سر سبز و شاداب ہونے میں یہاں کا سخت ترین موسم بھی آڑے نہیں آسکتا، جس کا ثبوت یہاں دو دن پہلے ہونے والی اور اس کے زریعے ہونے والی ہریالی ہے۔۔ سالوں بعد بارش کے سلسلے نے اس زمین کو زندگی تو بخشی ہے لیکن یہاں پانی کو محفوظ اور جمع کرنے کا کوئی طریقہ دستیاب نہیں جس کی وجہ سے بارش کا میٹھا پانی دریائے سندھ میں چلا جاتا ہے ۔
ایسے حالات میں جب دعا فاؤنڈیشن نے اس مسئلے کو سمجھتے ہوئے سولر پینل کے زریعے کھیتوں کو سیراب کرنے کا انتظام کیا تو یہ پراجیکٹ وہاں کے رہنے والے رہائشیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ دعا فاونڈیشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فیاض عالم کہتے ہیں کہ جب انہوں نے کھجور کے اس پلانٹ کو شروع کیا تو ممکنہ خیال یہی کیا جاتا تھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن اللہ کے فضلو کرم سے اب اس پلانٹ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور دیگر افراد کو بھی اس طریقہ کار کی سمجھ آگئی ہے جس کی مدد سے ہریالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس طرح اس پراجیکٹ کے تحت دو سال آٹھ ماہ قبل لگائے گئے 125 درختوں میں سے 26 درختوں پر پھل لگے ہوئے ہیں-
یہاں کام کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہاں ان درختوں کو چند دن پہلے لگایا گیا ہے اور پانی کی مسلسل فراہمی سے یہاں کے درختوں نے بہترین افزائش کی ہے ۔ کاشت کاری میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دعا فاؤنڈیشن کے اس منصوبے سے یہاں کے رہنے والے افراد کو روزگار بھی مہیا ہوگی یہاں کی خواتین اور بچوں کا کہنا ہے کہ، پہلے ہمیں پانی کے لیے بہت دور جانا پڑتا تھا لیکن اب ہمیں یہیں قریب پانی فراہم کردیا جاتا ہے اعر اس کے ساتھ ساتھ یہاں سبزیاں چننے پر 25 رپے روزآنہ کیا بنیاد پر روز گار بھی مہیا کی گئی ہے جس سے گزر بسر میں آسانی ہوئی ہے ۔
ان تمام سہولیات کے باوجود یہاں کا ساب سے بڑا مسلہ یہاں ، خواتین و حضرات کے لیے گھروں اور بیت الخلا کی عدم دستیابی ہے ، جس کی وجہ سے یہاں کی خواتین کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ جس پر یہاں کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ زیادہ پیسوں کی عدم دستیابی اور غربت کی وجہ سے بیت الخلا کی تعمیر ممکن نہیں ۔
نجی تنظیموں نے سندھ کے مسائل کو سمجھتے ہوئے مختلف منصوبوں پر اپنی دسترس کے مطابق بہت کام کیا ہے اسی طرح سرکاری سطح پر بھی عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے ان مسائل پر توجہ دینی ہوگی، ورنہ یہ سونا اگلتی زمین ، اسی طرح بنجر پڑی رہ جائے گی۔

Leave a Reply

Check Also

وہ ایک رنگ بہاروں جیسا تھا

تحریر : فوزیہ جمیل جب بھی مزاح کا ذکر آتا ہے کچھ ایسی ہستیاں ہیں جن کا چہرہ نظروں کے سامنے…