Home بلاگ/ کالم وہ ایک رنگ بہاروں جیسا تھا

وہ ایک رنگ بہاروں جیسا تھا

4 second read
0
0
180

تحریر : فوزیہ جمیل

جب بھی مزاح کا ذکر آتا ہے کچھ ایسی ہستیاں ہیں جن کا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے،وہ ان میں سے ایک تھے ان کے لہجے کی چبھن بھی کسی نا کسی طرح چہرے پر مسکراہٹ لے آتی تھی، کھرے لفظوں سے سرزش بھی سننے والوں کے لیے مزاح کا لطف رکھتی تھی، ایسا انداز جسے دیکھ کر ہی معلوم ہو جائے کہ مزاح کے تیر کی آمد آمد ہے، انتہائی سنجیدگی کے باوجود بھی اخلاقی اور تہذ یبی روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے مزاح کے کسی نا کسی پہلو سے تفریح فراہم کرنا میں ملکہ حاصل تھا۔آواز سے سماں باندھنے والے فنکاری کی کئی تہوں پر مشتمل معاشرے پر گہری نگاہ رکھنے والے اور معاشرے کے سیاہ نکات کے مزاح میں تنقیدی تذکرے کے زریعے نشاندہی کرنے والے اپنے ہی الگ ظرز کے فنکار صرف اسٹیج پر ہی نہیں حقیقی زندگی میں بھی انتہائی نرم دل خدا ترس انسان جنہوں کتنے ہی گم نام ناموں کونامور بننے میں مدد کی، تقلیدی خاصیت رکھنے والے جہاں دیدہ شخصیت لیجنڈری اداکار، ہدایت کار، اور کامیڈی تھیڑ کے بے تاج بادشاہ طویل علالت کے بعد دل اور گردےکے عارضے کے علاج کے لیے حکومتی امداد اور فوری ویزے کے عمل سے گزرنے کے بعد جرمنی پہنچے تھے تاکہ آگے کے سفر کو آرام کرنے کے بعد جاری رکھا جاسکے ڈاکٹر طارق شہاب کے مطابق وہ جرمنی کے شہر، نیورمبرگ کے اسپتال میں آرام کروانے کی غرض سے شفٹ کئے گئے تھے، سوا سات گھنٹے کے مسلسل سفر کی وجہ سے انہیں ہلکا بخار ہوگیا تھااور طبعیت میں تھکان محسوس کی گئی تھی۔اسپتال میں ان کے ٹیسٹ لیے جا رہے تھے ڈاکٹر طارق شہاب جو کہ اداکار ریما خان کے شوہر بھی ہیں عمر شریف صاحب کے علاج کے حوالے سے ذ مہ داریاں سنبھال رہے تھے اور ایمبولینس کمپنی سروس سے مسلسل رابطے میں تھے۔یاد رہے، مرحوم کے خاندان سے یہاں تک کہ انکی شریک حیات بھی ویزے نا ملنے کی وجہ سے انکے ساتھ نہیں تھیں۔ایمبولینس کو اگلی صبح انہیں لیکر آئس لینڈروآنہ ہونا تھا۔ طبیعیت کی زیادہ خرابی کے باعث انتقال کر گئے ۔عمر شریف 19 اپریل 1955 کو پاکستان ، کراچی میں پیدا ہوئے، کیرئر کی ابتداء، 1974 میں کی اس وقت انکی عمر محض 14 برس تھی, سلیم چھبیلہ مشہور کامیڈین سے متاثر ہو کر انہوں انکی پہلی کامیڈی آڈیو کیسٹ رانی بیٹی راج کرے گی1980 میں ریلیز کی۔ انکا اصلی نام تومحمد عمر تھا لیکن کسی وجہ سے میڈیا کی دنیا میں آنے کے لیے عمر شریف رکھ لیا تھا۔ابتدائی عمر میں ہی ان کے اندر مزاح کے جو جراثیم سے وہ اگے جا کر انہیں فلموں ، ڈراموں اور اسٹیج شو تک لے آیا ، طویل عرصے تک تھیٹر جن میں آڈیو تھیٹر اور تھیٹر کے بعد فلم کے اسٹیج کو آزمایا جس میں انکی چند ایک ہی فلمیں ہیں جن میں” مسٹر 420″ ، ” مسٹر چارلی “، لاٹ صاحب” اور خاندان، فلم کے ناکام تجربے سے گزرتے ہوئے ٹی وی کے شو تک پہنچے،” ہپ ہپ ہرے “سے لیکر “دا عمر شریف شو” تک کا سفر بہت ہی خوب رہا، انکے مشہور تھیٹر شوز میں ، بڈھا گھر پر ہے، بکرا قسطوں پر، نیلی ٹوپی والے ، ہم سب ایک ہیں، ہم سا ہو تو سامنے آئے، ماموں مزاق مت کرو، ون ڈے عید میچ، یہ ہے نیا تماشہ،آؤ سچ بولیں، بے بی سمجھا کرو، یہ ہے نیا زمانہ، عمر شریف نا ہی میں نا شی میں، دلہا، میں دلہا ہوں، پیٹرول پمپ اور دیگر اسٹیج ڈرامے جو انہوں نے کچھ وقفے کے بعد بنائیں اور اپنے ہی بنائے ہوئے کچھ شوز کو دوبارہ ری پروڈیئوز کیا ۔ مزاح کی دنیا کے بادشاہ کی حقیقی زندگی بھی نجی معاملات کی وجہ سے ، متزلزل رہی جن میں انکی شادیوں کے معاملے میڈیا دیکھے گئے۔
ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے بھی اپنی فنکاری سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے عمر شریف کی والدہ کے انتقال کے دن شام کو اپنے شو میں اپنے کردار کو ادا کر کہ اداکاری کی دنیا میں ایک تاریخ رقم کی ۔ انکی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ فنکار اور فنکاری کا اور اسکا اپنے دیکھنے اور سننے والے سے کتنا اور کیسا تعلق ہوتا ہے، سیکڑوں کی تعداد میں انہیں سننے اور دیکھنے وانے والوں کا نا امید کرنا اور انکار کرنا انکی سرشت میں نا تھا۔ملکی اور غیر ملکی لا تعداد شوز اور ریڈ کارپیٹ انکی شرکت کو اعزاز سمجھا جاتا تھا ، متعدد بار انہیں غیر ملکی انڈسٹریز سے انکے ساتھ کام کرنے کی آفر ہوئے مگر انہوں نے حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے انکار کردیا، اور پاکستان میں ہی رہ کر اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے، پاکستانیوں سمیت پوری دنیا کے دلو ں پر راج کرنے والے اس ضعیف الفطرت شخصیت نے پیسوں کی جگہ فن سے محبت کی اور انسانیت سے جذبے سے سرشار 2006 میں ایک ویلفئیر ٹرسٹ قائم کیا جس کا نام” عمر شریف ویلفئیر ٹرسٹ رکھا” ، انکی بے مثال اداکاری اور فنکاری کے بدلے میں انہیں ایک ہی سال میں 4 نگار ایوارڈز سے نوازا کیا ، تمغہ امتیاز، بہترین اداکاری اور ہدایت کاری پر نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ، انہوں نے دس نگار ایوارڈ اپنے نام گئےا ور بھی دیگر ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز بھی انکے نام ہیں۔ کئی بار صحت کے حوالے سے اسپتال میں بھی داخل کروائے گئے لیکن انکے سامعین و ناظرین کی دعائیوں سے صحت یاب ہوئے، گھر والوں کے بیان کے مطابق زندگی کے آخری سالوں میں دل کے عارضے ، شوگر اور کئی بیماریوں کے لاحق ہوجانے کی وجہ سے فنکاری سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی، کچھ نجی معاملات کی بنا پر بھی طبعیت میں نقاہت در آئی تھی، انہیں ، کچھ عرصے سے بھول جانے کا مرض بھی لاحق ہوگیا تھا۔ مالی پریشانی کے باعث علاج اور معالجے میں و قفے سے طبعیت میں بگاڑ پیدا ہوا اور جان لیوا ثابت ہوگیا۔ حکومت کی طرف امدادی مدد اور بیرون ملک علاج کی درخواست اور باہر لے جانے کے عمل میں گزرنے والے دن اور گھنٹے کی دیر بھی وہ برداشت نہیں کر سکے اور پورے پاکستانی عوام کے دلوں کو سوگوار کر خالق حقیقی سے جا ملے، ان سے آشنا شاید ہی کوئی دل ایسا ہوگا جو ان کی کمی کو محسوس نہ کرے۔مزاح کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھیٹر ، اسٹیج اور ٹی وی کے منچ کو ویران ، خاموش اور اندھیرا کر کہ چلے گئے پوری قوم کی انکی مغفرت کے لیے دعائیں ہیں۔

Leave a Reply

Check Also

تھر پار کر کی ایک جھلک میرے نظروں میں

تحریر : فوزیہ جمیل تھر رقبے کے لحاظ سے پاکستان ایک بہت بڑا ضلع ہے جو کہ اپنی وسیع و عریض ،…