تحریر: حافظ الرحمن
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ورلڈ بنک کا فنڈڈ پراجیکٹ ہے جو پاکستان کو 2400 میگا واٹ بجلی فراہم کریگا۔
یہ ڈیم صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان میں بن رہا ہے جو کہ صدیوں سے پسماندگی کی چکی میں پس رہا ہے۔
یہاں نہ تعلیمی سہولیات ہیں نہ صحتی سہولیات اور نہ ہی بنیادی زندگی کی سہولیات ہیں۔یہاں کے باسی ہمیشہ سے نظر انداز رہے ہیں اور جب یہ ڈیم یہاں پہ شروع ہوا تو یہاں کے باسی یہ سمجھتے تھے کہ اب ہمیں توجہ دی جا? گی لیکن ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔اس ڈیم پرعملی طور پہ 2014 میں کام شروع ہوا ہے اور ورلڈ بنک کے پلان کے مطابق 2024 میں اسے مکمل ہونا ہے۔ورلڈ بنک کی پالیسی کے مطابق مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات کرنے ہیں جن میں روزگار،صحت کے مراکز کی تعمیر،تعلیمی اداروں جسے کیڈٹ کالجز اور ٹیکنیکل کالجز کی تعمیر،لوگوں کے ذرائع معاش کی بہتری کے اقدامات،روڈز کی تعمیر،واٹرسپلائیز اور بجلی کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں اور ان کیلئے فنڈ بھی مختص ہوا ہوا ہے۔مقامی لوگوں کے حقوق کے تحفظ کی تحریک انجمن تحریک حقوق کوہستان کے مطابق اس پراجیکٹ کے ذمہ دار ورلڈ بنک کی پالیسیوں کے صریحاً خلاف ورزی کررہے ہیں اور ڈیم بنانے میں سب سے بڑے رکاوٹ خود ہی بن رہے ہیں۔وہ ایسا اسلئے کررہے ہیں کہ اس پراجیکٹ میں وہ لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں اور اس ڈیم کے کام میں رکاوٹ ڈال کر وہ اپنی مدت کو بڑھا رہے ہیں۔
انجمن تحریک حقوق کوہستان کے مطابق 1062 لوگوں کو ضلع سے باہر سے بھرتی کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر سکیل سات سے اوپر کے لوگ ہیں لیکن بہت سے کلاس فور ڈراؤرز اور کک بھی باہر سے بھرتی کئے گئے ہیں۔جبکہ مقامی لوگوں کو صرف مزدوری تک محدود رکھا گیا ہے اور کم تر ایسے لوگ ہیں جنکو دفتروں میں بھرتی کیا گیا ہے۔انجمن تحریک حقوق کوہستان نے باہر سے بھرتی شدہ چند ایک افراد کی اسناد کا بھی پتہ لگایا ہے اور مصدقہ دستاویزی ثبوت حاصل کرنے کے بعد ایسے ملازمین کی نشاندہی بھی ڈی سی جی ایم واپڈا اور دیگر اہلکاروں کی موجودگی میں کی ہے جو جعلی ڈگری پر بھرتی ہو? تھے اور بغیر اشتہار کے بھرتی ہو? تھے۔ اسکے بعد انجمن تحریک حقوق کوہستان نے بہت سے ایسے ملازمین کی نشاندہی بھی کی ہے جوکہ غیر متعلقہ ڈگری پہ بھرتی ہو? ہیں اور ملازمت کے لوازمات پورا نہیں اترتے ہیں۔مثال کے طور پہ ماحولیات کے اوپر ماہر ماحولیات کے بجا? ماہر زراعت کو رکھا گیا ہے۔سوشل سیکٹر میں کامرس کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے جبکہ انجنئیرز کو بھی سوشل سیکٹر میں رکھا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کی تحریک کے مطابق واپڈا میں مقامی جو لوگ بھرتی کئے گئے ہیں انکو پچھلے پانچ سالوں سے مستقل نہیں کیا جارہا جبکہ باہر سے اپنے رشتہ داروں کو ڈیلی ویجز پہ بھرتی کرکہ یہاں لاکر مستقل کیا جارہا ہے۔مقامی لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک جاری رکھے ہو? ہیں کہ نہ انکی پروموشن ہوتی ہے نہ وہ گریجوٹی کے حقدار ہیں اور نہ ہی چھٹی کے حقدار ہیں۔اس سے بھی بڑھ کرکہ مقامی لوگ اپنی ائیدادوں, کاروبار, تعلیم اور صحت کی قربانی دے رہے ہیں بجا? اسکے کہ انکو ریلیف دیا جا? انکو عارضی جو تھوڑی سی نوکریاں ملی ہیں اس سے وہ اوور ایج ہوگئے ہیں اور بہت سے ہونگے اور جب یہ پراجیکٹ ختم ہوگا تو انکا کیرئر بھی ختم ہوگا یا وہ تاحیات پرائیویٹ اداروں میں دھکے کھاتے رہینگے۔
مقامی تحریک کے رہنماوں کا یہ مطالبہ ہے کہ جو ڈگری ہولڈر مقامی دستیاب ہیں انکو نوکریوں میں لیا جاے اور تمام پوسٹوں پہ اشتہار کیا جا? تاکہ جو جہاں ہیں وہ نوکریوں کیلئے اپلائی کرسکے اور مقامی بھرتی شدہ افراد کو مستقل کیا جا? اور تمام مراعات دئے جائیں جنکا وہ حق رکھتے ہیں لیکن نہ تو اشتہار آج سے پہلے دیا گیا اور نہ ہی انکو انکے حقوق آج تک ملے۔متاثرین داسو ڈیم کا ایک اہم مسلہ انکی زمینوں کا حصول ہے جوکہ نہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے سروے کے مطابق لے رہے ہیں اور نہ ہی انکی مارکیٹ ریٹ دی جارہی ہے۔زمینوں کے حصول کیلئے تاریخ میں پہلی بارایک ایسا سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جسکو GIS یعنی Global Information System کہتے ہیں اور اس سسٹم کو چلانے والے اہلکاروں کا یہ کہنا ہے کہ اس سسٹم کے تحت وہ سیٹلائٹ سے تصویر لیکر زمین کی نوعیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔
اول تو ایسا سسٹم نہ تربیلا منگلا میں لاگو ہوا نہ نیلم جہلم میں ہوا اور نہ ہی بھاشہ ڈیم میں ہورہا ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس سسٹم کی آڑ میں سادہ لوح متاثرین کو لوٹا جارہا ہے۔اس سسٹم پہ بیٹھے اہلکار کسی متاثر کی زمین کی پہلے ایسے رپورٹ شائع کرتے ہیں جس میں اسکی اصل قسم کو تبدیل کیا جاتا ہے پھر وہ رپورٹ متاثرین تک اپنے کسی کارندے کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور ساتھ ہی پیغام دیتے ہیں اور اسی کارندے کے ذریعے لین دین کرکہ اصل رپورٹ پھر شائع کی جاتی ہے اور اس سب کے پیچھے واپڈا کے ذمہ داران ملوث ہیں کیونکہ GIS کے اہلکاروں کا کہنا ہیکہ جو بھی ہم کرتے ہیں واپڈا حکام کے ہدایات کے مطابق کرتے ہیں۔ایسی بہت سی رپورٹس ہمارے پاس موجود ہیں جس میں ایک ہی مہینے کے اندر زمین کی قسم کو دو دو تین تین بار تبدیل کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے ورلڈ بنک کی طرف سے لوکل ایریا ڈیویلپمنٹ پروگرام کے نام سے ایک پروگرام رکھا گیاہے جس چار سے چھ ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلئے رکھے گئے ہیں اور جسکا فیز1 مکمل بھی ہوچکا ہے کاغذات کی حد تک جبکہ زمین پر کچھ سولر لائٹس کے علاوہ ایک روپیہ کاکام ابھی تک نہیں ہوا ہے۔واپڈا حکام کے مطابق پندرہ سے سترہ کروڑ روپے بجلی کی مد میں پیسکو کو دئے گئے ہیں جبکہ اس مد میں ایک روپیہ کاکام ابھی تک نہیں ہوا ہے اور ورلڈ بنک کے بھی پیسکو کو رقم دینے پہ اعتراضات ہیں اسکے علاوہ اس پروگرام میں بہت ساری سکیمیں ہیں لیکن کسی ایک پر ابھی تک کام شروع نہیں ہوا ہے۔تعمیراتی کاموں کی وجہ سے پورا علاقہ گرد کی لپیٹ میں ہیں اور انکی مشینری سارا ملبہ شاہراہ قراقرم پہ گراتی ہے جو کہ ورلڈ بنک کی پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی ہے اورپھر وہاں سے اس ملبے کو دریا? سندھ میں گرایا جاتا ہے جو کہ محکمہ فشریز کی اجازت کے خلاف ہے اور یہی ملبہ ایک دن تربیلا ڈیم کو بھردیگا اور ایک ڈیم بن جائیگا اور دوسرا ڈیم ملبے سے بھر جائیگا۔اس سے بھی بڑھ کر کہ شاہراہ قراقرم کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے آس پاس کی آبادی کو گرد سے بھر دیا ہے اور جو بھی انکی سلائیڈنگ کی ضد میں آکر ہلاک ہو یا زخمی ہو یا گاڑی ٹوٹ جائے اسکا کوئی ازالہ نہ اب تک کیا گیا ہے اور کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔
واپڈا حکام چائینیز اور دیگر انکے محکموں کی بھاری مشینری اور گاڑیوں کی وجہ سے مقامی کمیلہ شہر کاٹریفک ہمیشہ جام رہتا ہے جس سے بچے وقت پر سکول نہیں پہنچ سکتے مریض ہسپتال نہیں پہنچ سکتا عام بندے کی آمدورفت بری طرح متاثر ہے جبکہ انکے کاغذات میں پرائیویٹ اڈہ کی تعمیر ہونے کے باوجود اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
جو لوگ اس پراجیکٹ سے متاثر ہو رہے ہیں انکی ری سیٹلمنٹ پہ ابھی تک کوئی کام نہیں ہوسکا کام تو درکار جگہ کی شناخت تک نہیں ہوسکی ہے اور ری سیٹلمنٹ کے نام پہ پورا ایک ڈیپارٹمنٹ تنخواہیں بٹور رہا ہے لیکن کام ایک آنے کا اب تک نہیں کیا ہے۔اسکے علاوہ ضلعی انتظامیہ لوگوں کے عام مسائل کو ایڈریس کرنے کیلئے فارغ ہی نہیں ہے انکے مسائل کی وجہ سے جس سے ضلعے کے تمام تر دیگر مسائل جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں۔اوپر کے ان تمام مسائل کو لیکر انجمن تحریک حقوق کوہستان نے ریلیاں بھی کئے ہیں احتجاج بھی کئے ہیں دھرنے بھی دئے ہیں اور گھنٹوں گھنٹوں تک بلکہ ہفتوں تک مذاکرات بھی کئے ہیں لیکن نہ واپڈا اہلکاروں کی نیت مسائل حل کرنے کی ہے نہ ان کا رویہ متاثرین کے ساتھ انسانوں والا ہے اور نہ ہی ان مسائل کے حل میں وہ دلچسپی لیتے ہیں۔ایسے میں انجمن تحریک حقوق کوہستان اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ واپڈا ذمہ داروں کی غیر سنجیدگی اور کام کو طول دینے میں انکا اپنا ہی فائدہ ہے تاکہ وہ مدت ملازمت کو بھی بڑھا سکیں اور مراعات سے زیادہ سے زیادہ فائیدہ اٹھا سکیں۔آخر کار ورلڈ بنک اپنے درجہ ذیل مقاصد کے حصول میں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے جیسے کہ
1_ livelihood

2_ Employment to local Community
3_ Dev. Of Social Infrastructure
4_ Education & Health
5_ Revenue &Land Acquisition
6_ Environment & Health safety

حقائق نامہ
خلاصہ
1_ فنی ادارے قائم نہ کر کے مقامی افرادی قوت کی صلاحیت کو ضائع کیا اور باقی تعلیمی ادارے اگر نہیں بنے تو جو بجٹ مختص تھا وہ کہاں گیا؟
2_ قدرتی ماحول کو وب کی ہدایات کو نظر انداز کر کے ذاتی فائدے کے لیے تباہ کیا گیا اور اس مد میں جو بجٹ مختص ہے وہ کہاں گیا؟
3_ قومی دولت کو مقامی آبادی کے مفاد کے لیے استمال نہ کر کے صرف ذات کے فائدے کو مد نظر کیا گیا
4۔ تاخیری حربے بنا کر عوام کے مفاد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ قومی دولت کا بے دریغ ضیاع کیا گیا اور تنخواہوں اور مراعات کے مد میں کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کرلئے گئے لیکن پوچھ گچھ کیوں نہیں؟
5_ قوم کے اندر نفرت بے چینی پھیلا کر قومی مفاد اور یکجھتی کو نقصان پہنچیا گیا اور متاثرین کو احساس کمتری کی بیماری میں جان بوجھ کر جھونک دیا گیا
6_ ملازمین اور با اختیار اہلکاران کو کئی سالوں تک ایک مقام پر فرائض انجام دینے کیلئے رکھا جس سے ان کے تعلقات کی وجہ سے مسائل نے جنم لیا اور ملازمت کی مدت میں طوالت سے وہ اپنے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کو بھی کھینچ لائی جس سے اقرباپروری کو پروان چڑھا
اس سب کو دیکھتے ہو? انجمن تحریک حقوق کوہستان حکام بالا اور ورلڈ بنک سے مطالبہ کرتی ہیکہ وہ داسو ڈیم کی کرپشن اور کام میں دیر اور متاثرین کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک کے ساتھ ساتھ تمام بے قاعدگیوں پر ایک ہائی لیول کمیشن بنا? جو زمینی حقائق دیکھنے کے بعد ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دے اور داسو ڈیم کو کالا باغ ڈیم بنانے سے بچا?
ہم محب وطن پاکستانی ہیں ڈیم میں کسی قسم کی خلل نہیں چاہتے۔ہم چاہتے ہیں کہ ڈیم بنے لیکن ہمیں اندھیرے میں جھونک کر اور ہمارے حقوق کو پاوں تلے روند کر ایسا کرنے کی ہم اجازت نہیں دے سکتے۔
اگر ایسا نہیں کیا گیا تو انجمن تحریک حقوق کوہستان قطعاً متاثرین کوہتستان کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالنے نہیں دیگی اور سب سے پہلے کوہستانیوں کے حقوق کی جنگ لڑیگی اور جس کے نتیجے میں ڈیم کے کام میں خلل یا خدانخواستہ کام میں مستقل رکاوٹ کی ذمہ داری واپڈا حکام اور حکام بالا پر ہوگی

Load More Related Articles
Load More By News desk
Load More In بلاگ/ کالم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

اساتذہ کی پروموشن کا ناقص معیار

نظام الدین) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم اپنے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کی کس کس کمزوری ک…