Home بلاگ/ کالم ہم عید کیسے منائیں؟

ہم عید کیسے منائیں؟

0 second read
0
1
350

رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے۔ خوش قسمت حضرات اخلاص اور شوق و رغبت کے ساتھ رمضان کی عبادات میں مصروف ہوں گے۔ لازم بات ہے کہ ان دنوں میں مردوخواتین غرض اکثر لوگوں کی نظر عیدالفطر پر لگی رہتی ہے اور ہر کوئی اپنے انداز میں عید منانے کے لیے تیاریوں میں مصروف ہوتاہے۔ ایسے میں یہ بات ذہن میں رہے کہ عیدالفطر درحقیقت رمضان المبارک کے دوران روزے رکھنے اور عبادات کرنے پر اللہ تعالیٰ سے انعام پانے کا دن ہے، اور اسی لحاظ سے یہ ہمارے لیے خوشی کا دن ہے۔ بعض احادیث کی رو سے عید کے دن مناسب حد تک خوشی منانے اور تفریح کرنے کی بے شک اجازت ہے لیکن اس خوشی اور تفریح کی ایک حد ضرور مقررہے کہ اس میں بندہ کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے یا شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوجائے۔ آج کل لوگوں نے عید کو دیگر تقریبات کی طرح محض ایک رسمی ثقافتی میلہ یا دن سمجھ لیاہے حالانکہ اسلامی نقطہ نظر سے عید کوئی برائے نام آزادی کا دن نہیں جہاں انسان تمام شرعی احکامات سے آزاد ہوکر جو کچھ مرضی ہو کرے، بلکہ جس چیزیا عمل کا حکم شریعت اور پیغمبر کی طرف سے ہو یا اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہو تو پھر وہ صرف رسم نہیں بلکہ عبادت کے درجے میں ہوتاہے۔ یہی معاملہ عیدکا ہے کہ اس کو عبادت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر منانا چاہئے۔ دیکھا گیاہے کہ لوگ عید کے دن خوشی اور تفریح میں بہت زیادہ مبالغہ سے کام لیتے ہیں۔ ابھی رمضان گزرگیا، آدمی نے اللہ تعالیٰ کے لیے روزے رکھے، نمازیں پڑھیں، قرآن کی تلاوت کی، بخشش کی دعائیں مانگیں اور آج عید کے دن صبح سے شام تک کا وقت گناہوں میں گزارا۔ نہ کوئی نماز اور نہ تلاوت۔۔۔ کوئی فلیمیں دیکھتاہے، کوئی بیہودہ گھوم پھرتاہے اور کوئی بے حیائی کے دیگر کام کرتاہے حتی کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان پردہ کی تمییز بھی ختم ہوجاتی ہے۔ روایات میں عید کی رات اور عید کے دن کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے جن کے تحت عید کے شب و روز میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرکے عبادت کرنی چاہئے۔ صحابہ کرام اور بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ عید کے دن اپنی عبادات کی قبولیت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ حقیقی عید یہ ہے کہ ہماری توبہ قبول ہو اور اپنی عبادات کے ذریعہ ہم اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ سکیں۔ ایک دفعہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عید کے دن زاروقطار رو رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ امیرالمومنین! آج تو لوگ خوشی منارہے ہیں اور آپ رو رہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں اس خوف سے رو رہاہوں کہ نہیں معلوم میری عبادات اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوئیں یا رد ہوئیں۔۔۔ بہرحال پورے مہینے کی عبادات کو عید کی رات اور دن میں فضولیات کے ذریعہ برباد نہیں کرنا چاہئے اور اس دن کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے عبادت کی نظر سے گزارنا چاہئے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ جیسی بھی ہوں عید کی خوشیاں تو ہم مناتے ضرور ہیں لیکن ہمیں اپنی خوشیوں میں دوسروں کو ضرور شریک کرنا چاہئے۔ ہمارے ارد گرد معاشرہ میں بہت سارے غریب اور لاچار لوگ رہتے ہیں جو عید کی خوشیاں منانے سے قاصر رہتے ہیں، وہ عید کے ایام بڑی حسرت اور پریشانی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ کتنے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کے لیے نئے کپڑے خرید نہیں سکتے، بچوں کو خوش کرنے کے لیے معمولی سا کھلونا نہیں دے سکتے، غربت کے باعث عید کے دن گھر میں معمول سے ہٹ کر اچھا سا مناسب کھانا تیار کرنے کی ہمت نہیں کرسکتے، عید کے دن عیدی کے نام سے اپنے بچوں کو دینے کے لیے رقم نہیں ہوتی اور دوسری طرف ہم ہیں کہ خوشی کے نام سے یوں ہی ہزاروں لاکھوں اڑا دیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ گلی محلوں میں کچھ بچے نہایت خوبصورت لباس کے ساتھ ہاتھوں میں کھلونے اور سینکڑوں ہزاروں روپے پکڑ کر ہنستے کھیلتے ہیں اور دوسری طرف انتہائی معمولی لباس پہنے خالی ہاتھ کھڑے غریب کے بچے ان کو بڑی حسرت اور پریشانی کے ساتھ دیکھتے ہیں جو یقینا بہت بڑا المیہ ہے۔ میری عرض ہے کہ صدقہ فطر تو ایک وجوبی امرہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں جائزہ لیکر اپنی استطاعت کے مطابق ابھی سے غریب گھرانوں تک نقد رقم، کپڑے، بچوں کے تحفے، مٹھائی وغیرہ کے ڈبے، کھانے کی چیزیں وغیرہ ضرور پہچانی چاہئں تاکہ ان غریبوں کو بھی عید منانے کے لیے حوصلہ اور امید مل جائے۔ بالخصوص عید کے دن اپنی جیب میں کچھ رقم ضرور رکھیں اور باہر نکل کر گلی محلوں میں ایک طرف حسرت بھری نگاہوں سے کھڑے بے سہارا بچوں کو تلاش کرکے ان پر تقسیم کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایسے غریب بچوں کے چہروں پر کتنی خوشی اور مسکراہٹ آتی ہے۔ یہ ایک موقع ہے اور حدیث کی رو سے دوسرے کے دل میں خوشی داخل کرنا بہت بڑا ثواب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

انرجی کے بڑے منصوبے اور کوہستان کے باسی

تحریر: حافظ الرحمن داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ورلڈ بنک کا فنڈڈ پراجیکٹ ہے جو پاکستان کو 240…